ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / تیسری مرتبہ وزیر اعلیٰ بننے والے ایڈی یورپا کی سیاسی کہانی ’’کلرک کے عہدے سے وزیر اعلیٰ کی کرسی تک کا سفر‘‘

تیسری مرتبہ وزیر اعلیٰ بننے والے ایڈی یورپا کی سیاسی کہانی ’’کلرک کے عہدے سے وزیر اعلیٰ کی کرسی تک کا سفر‘‘

Sat, 19 May 2018 11:03:20    S.O. News Service

شیموگہ:18مئی (ایس او نیوز) محکمہ سماجی بہبود میں کلرک۔۔۔ فلور مل میں رائٹر۔۔۔ ٹاؤن منسپل کونسل کے رکن ۔۔۔ رکن اسمبلی ۔۔۔ اپوزیشن لیڈر ۔۔۔ نائب وزیر اعلیٰ۔۔۔ اور وزیر اعلیٰ۔۔۔ جی ہاں ان تمام عہدوں سے گزرتے ہوئے ریاست کے 23ویں وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف لینے والے بی ایس ایڈی یورپا کی سیاسی داستان کی یہ چند اہم جھلکیاں ہیں۔ منڈیا ضلع کے کے آر پیٹ کے بوکنایکرے انکاپیدائش مقام ہے، مگر بی ایس ایڈی یورپا نے اپنی زندگی اور سیاسی سفر کا آغاز شیموگہ ضلع شکاری پور سے کیا۔ بی جے پی میں ایک معمولی کارکن کی حیثیت سے سیاسی میدان میں داخل ہونے والے ایڈی یورپا اب تیسری مرتبہ ریاست کے وزیر اعلیٰ بنے ہیں۔ 27؍فروری 1943 میں منڈیا ضلع کے کے آرپیٹ تعلقہ کے بوکنا کیرے میں ایک معمولی خاندان میں جنم لینے والے بی ایس ایڈی یورپا نے منڈیا کے پی ای ایس کالج میں پی یو سی تک کی تعلیم حاصل کی۔ جس کے بعد محکمہ سماجی بہبود میں کلرک کی حیثیت سے ملازمت کی۔ کلرک کے کام سے استعفیٰ پیش کر کے نوکری کی تلاش میں شکاری پور پہنچے۔ جہاں ویرابھدرا شاستری نامی شخص کی فلور مل میں رائٹر کے کام کیلئے مقرر ہوئے۔ اس فلور مل کے مالک کی بیٹی مائترا دیوی کے ساتھ ان کی شادی 1967 میں ہوئی۔ 1970 میں شکاری پور تعلقہ کے آر ایس ایس کے سکریٹری کے طور پر مقرر کئے گئے۔اس دوران جن سنگھ تعلقہ شاخ کے صدر بھی رہے۔1972 میں شکاری پور ٹاؤن منسپل کونسل کے رکن منتخب ہوئے جس کے بعد شیموگہ ضلع بی جے پی شاخ کے صدر بھی مقرر ہوئے۔ 1983 میں پہلی مرتبہ ریاستی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ جس کے بعد اب تک مسلسل رکن اسمبلی منتخب ہوتے آرہے ہیں۔ 1988 میں ریاستی بی جے پی کے صدر مقرر ہوئے، 1994میں ریاستی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر مقرر ہوئے۔1999 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے امیدوار قرار دیئے گئے مگر اس وقت انہیں شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ کانگریس کے مہالنگپا نے انہیں شکست دے دی جس کے بعد رکن کونسل منتخب کئے گئے۔شکاری پور اسمبلی حلقہ سے 8مرتبہ انتخاب لڑا اور 7مرتبہ کامیاب رہے۔ 30؍ مئی 2008 سے 31جولائی 2011 تک ریاست کے وزیر اعلیٰ رہے۔جنوبی ہندوستان میں بی جے پی کے پہلے وزیر اعلیٰ ہونے کا اعزاز ایڈی یورپا کو حاصل رہا ہے۔ مگر افسوس کہ ان پر اور ان کی کابینہ میں شامل مختلف وزراء پر بدعنوانیوں کا الزام رہا اور جیل کی ہوا بھی کھانی پڑی۔ اس وجہ سے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے مستعفی ہوگئے اور ان کے خلاف خود بی جے پی لیڈروں کی طرف سے سازش کئے جانے کے بہانے پارٹی سے دوری اختیار کرلی اور کے جے پی کا قیام عمل میں لایا۔2013 سے منعقدہ اسمبلی انتخابات میں کے جے پی کے ذریعہ انتخابات کا سامنا کیا۔ مگر کارکردگی بہتر نہیں رہی اور دوبارہ بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی۔ 2014میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں شیموگہ لوک سبھا حلقہ سے بی جے پی امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑا اور کامیاب رہے۔

2008 کے اسمبلی انتخابات کے دوران اس وقت کے سماج وادی پارٹی کے ریاستی صدر سابق وزیر اعلیٰ ایس بنگارپا نے شکاری پور اسمبلی حلقہ سے ایڈی یورپا کے خلاف انتخاب لڑا تھا۔ ایڈی یورپا اور بنگارپا کے درمیان مقابلہ پورے ملک کے عوام کی نظروں کا مرکز بناہوا تھا اور بنگارپا کے خلاف ایڈی یورپا نے 83,498 حاصل کر کے جیت درج کرائی تھی۔

تین مرتبہ وزیر اعلیٰ : بی ایس ایڈی یورپا نے تین مرتبہ وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف لیا ہے۔ جے ڈی ایس۔بی جے پی مخلوط حکومت کے دوران کمار سوامی وزیر اعلیٰ اور ایڈی یورپا نے نائب وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے اقتدار سنبھالا تھا۔ پارٹی کے معاہدے کے تحت 12؍ نومبر 2007 کو بی ایس ایڈیورپا نے ریاست کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف لیا مگر جے ڈی ایس کی طرف سے دی گئی حمایت واپس لینے کی وجہ سے چند ہی دنوں میں یعنی 19نومبر 2007 کو وزیر اعلیٰ کا عہدہ چھوڑنا پڑاجس کے بعد 2008 میں ہوئے انتخابات میں بی جے پی کو اقتدار پر لانے میں ایڈی یورپا کامیاب رہے۔ 30؍مئی 2008 کو وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے عہدے کا حلف لیا۔ جس کے بعد اب پھر 17؍مئی 2018 کو تیسری مرتبہ وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف لیا ہے۔ 19؍مئی کی شام 4بجے اکثریت ثابت کرنے میں کامیاب ہوپائیں گے یا نہیں اس کا جواب  شام 4بجے مل سکتا ہے۔


Share: